مولانا مقداد علی علوی
حوزہ نیوز ایجنسی I اُفقِ تاریخ پر جب بھی ستارۂ وفا طلوع ہوا، اُس کی تابانی میں سب سے درخشاں جلوہ، قمر بنی ہاشم حضرت عباس ابن علی علیہ السلام کا ہے۔ آپ علیہ السلام محبت کی اس معراج پر فائز ہیں جہاں سے عشقِ حقیقی کی کرنیں صدیوں تک کے سفر کو منور کرتی ہیں۔ علمدارِ کربلا ہونے کا شرف صرف پرچم اُٹھانے کی حد تک نہیں، بلکہ وفا کے عَلَم کو تاریخ کے گنبد پر بلند کرنے کی عظیم سعادت ہے۔
نسب و ولادت: شجرۂ عصمت کا ثمرۂ نایاب
حضرت عباس بن امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب عليهما السّلام یہ وہ سلسلۂ نور ہے جو ایک تحقیق کے مطابق،4 شعبان المعظم سن 26 ہجری بروز منگل، شجرۂ طہارت سے پھوٹا۔ آپ علیہ السلام کی والدۂ گرامی، اُمّ البنين سلام اللہ علیھا ، جو شجاعت و غیرت کا پیکر تھیں، نے اپنے لعلِ گراں مایہ کو وہ خمیر عطا کیا جس نے تاریخ میں وفا کی نئی تعریف رقم کی۔ لقبِ "قمر بنی ہاشم" محض ایک نام نہیں، بلکہ آپ علیہ السلام کے جمالِ باطن و ظاہر کا آئینہ دار ہے.گویا حرمِ ہاشمی میں چاند کی مکمل کہکشانی طلوع ہوئی۔
شخصیت کے جواہر: کمالات کا بحرِ ذخّار
حضرت عباس علیہ السلام کی ذات میں انسانی کمالات کا وہ گہوارہ سمایا تھا جو نادرۂ روزگار ہے۔
💠 شجاعت: آپ علیہ السلام شیرِ خدا علی علیہ السلام کے فرزند تھے، گویا شجاعت و دلیری آپ علیہ السلام کے مقدر میں لکھی تھی۔
💠علم: بابِ مدینۃ العلم کے گہوارے میں پرورش پائی، سو عِلم کے بحرِ ناپیدا کنار سے آپ علیہ السلام کے دامن مالا مال تھے۔
💠جمال: صورت و سیرت کے اعتبار سے آپ علیہ السلام ایسے حسین تھے کہ دیکھنے والا نگاہیں نہ اُٹھا پاتا۔
💠وفا: یہ وہ صفت تھی جو آپ علیہ السلام کے وجود کا نقیب بن گئی حسین علیہ السلام جیسے بھائی کی محبت میں ایسی فنا کہ اپنا وجود بھی فراموش۔
کربلا کی خاکِ خونچکاں میں، وفا کا شاہکار
میدانِ کربلا میں عباس علیہ السلام کا کردار ایک ایسی منظوم داستان ہے جس کے ہر بیت میں سوزِ درون اور جذبۂ بے قراری رچی بسی ہے۔
💠علمداری: آپ علیہ السلام نے عَلَمِ حسینی کو اس طرح تھامے رکھا کہ وہ صرف پرچم نہ رہا، بلکہ ایمان کا نشان، استقامت کا استعارہ بن گیا۔
💠فرات کی تلاش: جب خیمۂ امام علیہ السلام میں پیاس کی آگ بھڑکی، تو عباس علمدار علیہ السلام نے فرات کی طرف رختِ سفر باندھا۔ یہ صرف پانی کی تلاش نہ تھی، بلکہ عشق کے دریا میں ڈوب جانے کا اعلان تھا۔
💠شہادت: راستے میں دشمنوں کے نیزوں نے آپ علیہ السلام کے بازوؤں کو شہید کیا۔ مگر اے کربلا کے قاری! دیکھ، وہ منظرِ عظیم
آپ علیہ السلام کی زبانِ وفا پر یہی جملے جاری تھے
(وَ اللهِ لَوْ قُطِّعَتْ يَدَايَ لَمَا تَرَكْتُ نُصْرَةَ أَخِي الْحُسَيْنِ)
خداوندِ قدوس کی ذاتِ پاک کی قَسم! اگر میرے دونوں دستِ وفا بھی قطع کر دیے جائیں، تب بھی میں اپنے برادرِ اعظم، سرورِ شہیداں حضرت امام حسین علیہ السلام کی نصرت و حمایت سے دست بردار نہ ہوں گا۔
بازو کٹے، عَلَم زمین پر نہ گِرا
لبِ پُرنور سے "یا حسین" کا نعرہ بلند ہوا
آخری سانس تک وہ عَلَم اُسی طرح قائم رہا
جس طرح ان کی وفا ابد تک قائم رہے گی۔
ادبی آئینے میں: شعر و نثر کا مُرَقَّع ہیں عباس علیہ السلام
حضرت عباس علیہ السلام کی شخصیت نے ادب کو نئی جہتیں عطا کی ہیں۔ میرانیس اور مرزا دبیر کے مرثیے، اقبال کی شاعری، اور عربی و فارسی کے قصائد — سب میں عباس علیہ السلام کی وفا کو ندرتِ بیان سے پیش کیا گیا ہے۔
شعر
"عَلَم ہے جس کے ہاتھ میں، وہ ہے عباسؑ شیرِ خدا
وفا کا ہے پیکر، شجاعت کا ہے دریا"
آپ علیہ السلام کی شخصیت نثر نگاروں کے لیے بھی ایک سمندر ثابت ہوئی، جس سے ہر مصنف نے موتی چنے ہیں۔
💠پیغامِ سیرت: زندہ قوموں کے لیے مشعلِ راہ
حضرت عباس علیہ السلام کی زندگی سے درج ذیل درخشاں پیغام ملتے ہیں:
1. وفا کی عظمت: آپ علیہ السلام نے ثابت کیا کہ وفا کے رشتے خونی رشتوں سے بھی بلند تر ہوتے ہیں۔
2. شجاعت کا حقیر استعمال: آپ علیہ السلام کی طاقت صرف میدانِ جنگ تک محدود نہ تھی، بلکہ اُسے خدمت اور حفاظت کے لیے وقف کیا۔
3. عِلم کی ضرورت: جس نے عِلم کے بغیر شجاعت کو اپنایا، وہ راہِ حق سے بھٹک جاتا ہے۔
4. قربانی کا صحیح مفہوم: قربانی دینا نہیں، قربانی بن جانا یہی درسِ عباس علیہ السلام ہے۔
ابدی روشنی
حضرت عباس علمدار علیہ السلام کی سیرت ایک ایسا دریا ہے جس کا ہر قطرہ وفا و ایثار سے لبریز ہے۔ آپ علیہ السلام کی شخصیت محض تاریخی کردار نہیں، بلکہ انسانیت کے اخلاقی افق پر وہ آفتاب ہیں جو ہمیشہ تابندگی بخشتا رہے گا۔
"عباس علیہ السلام وہ مینارۂ نور ہیں جس کی روشنی میں راہِ حق کے مسافر اپنا راستہ تلاش کرتے ہیں۔ وہ صرف علمدارِ کربلا نہیں، بلکہ ہر دور میں وفا کے علمبردار ہیں، ایک ایسا چراغ جو ہر ظلمت میں راہنمائی کرتا ہے اور کرتا رہے گا۔"
آئیے، ہم بھی اپنی زندگیوں میں ان کے اسوۂ حسنہ کو اپنائیں اور وفا، شجاعت اور خدمت کے ان پاکیزہ اصولوں کو زندہ رکھیں۔









آپ کا تبصرہ